دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے

جناب صدر عزیز سامعین!السلام علیکم! آج کی میری تقریر کا عنوان محبت ہے۔

محبت، الفت، دوستی، قربت، لگاؤ اور قلبی تعلق، یہ وہ الفاظ ہیں جن سے کم و بیش سبھی انسان اور خاص کر کے انسانیت کی مستقبل کی تاریخ کو رقم طراز کرنے والی جوان نسل، ان الفاظ کے مضمون سے آشنا اور آگاہ ہونے کا دعوی کرتی ہے۔ اسی محبت اور قلبی تعلق کی بنا پر بہت سے لوگ اپنے اندر مثبت تبدیلی ایجاد کرنے پر مجبور ہوئے اور اس کے نتیجہ میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہوئے نظر آئے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی دوستی اور محبت کے سمندر نے نہ جانے کتنے افراد کو اپنی طوفانی اور طغیانی لہروں میں سمیٹ کر نابودی اور بربادی کے ساحل پر دفن بھی کیا ہے۔

سامعین کرام!!
اچھی بات تو سب کو اچھی لگتی ہے، لیکن جب تمہیں کسی کی بری بات بھی بری نہ لگے تو سمجھو تمہیں اس سے محبت ہے۔ راحت و سرور ہو یا رنج و غم، نفع ہو یا نقصان، ہر حال میں اپنی خواہش کو ختم کر کے محبوب کی خواہش کے سامنے سر تسلیم خم کردینے کا نام محبت ہے۔

محبت میں انسان کو کائنات بدلی بدلی سی لگتی ہے۔ بلکہ ظاہر و باطن سب کچھ بدل جاتا ہے۔ زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے اور محبوب میں کوئی خامی نظر نہیں آتی، اگر نظر آئے بھی تو محسوس نہیں ہوتی، محسوس ہو بھی تو ناگوار نہیں گزرتی۔

محبت کا لفظ اردو میں بھی کئی معانی رکھتا ہے۔ محبت کئی قسموں کی ہو سکتی ہے۔ یہ محبت عام کسی شے، کسی خاص ہستی،ملک یا رشتے سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ معمولی ہو سکتی ہے اور شدید بھی۔ شدید حالت جان دے دینے اور لے لینے کی حد تک ہو سکتی ہے۔ اسے پیار یا عشق بھی کہتے ہیں۔ محبت کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلاً مذہبی پیار، کسی خاص رشتے سے پیار، حب الوطنی یعنی وطن کے لیے پیار، کسی بندے کے لیے پیار وغیرہ وغیرہ۔ مرزا غالب نے محبت کو ایسا پایا؀

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

بقول علامہ اقبال محبت کی تعریف نسبتاً مختلف ہے؀

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

محبت اور لگاوٹ میں بھی بہت فرق ہے۔ بڑے بڑے لوگ لگاوٹ کو محبت سمجھنے کی غلطی کر جاتے ہیں جب کہ یہ دونوں بہت علیحدہ علیحدہ جذبے ہیں۔ جیسے کہ عشق میں عاشق اندھا ہو جاتا ہے کیونکہ اسے اپنے معشوق میں کوئی عیب نظر نہیں آتا، معشوق اس کے لیے دنیا کی سب سے عظیم ہستی ہوتا ہے، جس کو حاصل کرنا اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ محبت بے لوث اور پُرخلوص جذبوں کا نام ہے جبکہ عشق ایسی چاہت کو کہتے ہیں جس میں ضد ہوتی ہے۔ محبت ایک لافانی جذبے اور سچائی کا نام ہےجبکہ عشق ایک دماغی خلل کا نام ہے۔ جو عاشق کو خیالوں کی اس دنیا میں دھکیل دیتی ہے کہ جہاں پر اسے صرف اپنا معشوق ہی سب سے اچھا لگتا ہے۔ معشوق کے حصول کے جنون میں وہ مر بھی جاتا ہے۔ جب ہی کسی شاعر نے کیا خوب کہا؀

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا

اجازت کا طلبگار ہوں۔ فی امان اللہ
شکریہ۔

Advertisements