جناب صدر معزز سامعین السلام علیکم!
آج میری تقریر کا عنوان یوم دفاع پر روشنی ڈالنا ہے۔ ۶ستمبر ۱۹۶۵ء پاکستان کی قومی تاریخ میں وہ تاریخ ساز دن ہے جب قوم سو رہی تھی لیکن پاک سرحد کی نگہبان آنکھیں جاگ رہی تھیں۔ وطن کے سپاہیوں کے لئے اپنی وفاؤں کا عہد پورا کرنے کا وقت آ گیا تھا۔ ہر بچہ، جوان، بوڑھا سر پر کفن باندھے اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ملک کے دفاع کے لئے دشمن کے مقابل تھا۔

اس دن پاکستان کے شہیدوں جری جوانوں نے اپنی سرحدوں کے بہادر اور غیور پاسبانوں کی فہرست میں اپنا نام رقم کیا۔ ان کا تن، من، دھن دیس پر قربان تھا۔ اب ہر سپاہی ناقابلِ شکست فصیل تھا، جس نے دشمن کی پیش قدمی روک دی۔ ان کی شجاعت کے ناقابلِ یقین کارناموں کی کوئی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی۔ ان کی فرض شناسی اور حب الوطنی جدید جنگوں کی تاریخ میں درخشندہ مقام پر فائز کی جا سکتی ہے۔

یہ ایک تاریخی معرکہ تھا جس میں ہمت اور حوصلوں کی بے مثال کہانیوں نے جنم لیا۔ پوری دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ پاکستان کے عوام اور افواج دشمن کے عزائم کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور اس کے منصوبے خاک میں ملا دئے۔ افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ ایک چھوٹی مگر خود دار قوم نے ثابت کیا کہ جدید اسلحہ اور فوجی برتری ہی نہیں بلکہ قوتِ ایمانی ، اتحاد، جرأت، اپنے مقصد پر یقینِ محکم اور دھرتی سے محبت ہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی جنگ میں کامیابی اور سرفرازی کا سبب بنتے ہیں۔

جب فوجیں سرحد کی طرف جاتیں تو بوڑھے مرد اور عورتیں سڑک کے کنارے ان کی سلامتی کے لئے دعائیں مانگتے، ان کی مدد کے طریقے پوچھتے اور بچے جذبہ عقیدت سے سلیوٹ کرتے۔ بہنیں اللہ سے ان کی حفاظت کے لئے دعائیں مانگتی۔

اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

ساتھیو!
جنگوں کی تاریخ میں دوسری جنگ عظیم دوئم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی سیالکوٹ کے ایک علاقے چونڈہ کے مقام پر لڑی گئی جہاں طاقت کے نشے میں چور بھارتی فوج چھ سو ٹينک لے کر پاکستان ميں داخل ہوگئی تھی۔ پاکستان فوج کی زبردست جوابی کارروائی نے دشمن کے ۴۵ ٹینک تباہ کر دیے اور کئی ٹینک قبضے میں لے لیے تھے۔ اسی طرح پانچ فیلڈ بندوقیں قبضہ میں لے کر بہت سارے فوجی قیدی بھی بنائے گئے۔ جنگ کا پانسہ پلٹتا دیکھ کر بھارتی فوجی حواس باختہ ہوگئے اور ٹینک چھوڑ کر فرار ہونے لگے تو پاک فوج نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن کے علاقے میں کئی چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔ اسی لیے چونڈہ کے مقام کو بھارتی ٹینکوں کیلئے ٹینکوں کا قبرستان کہا جاتا ہے۔

مگر سامعین
ہماری افواج نہ صرف جنگ کے دوران معرکوں میں حصہ لیتی ہیں بلکہ امن کے دور میں بھی قوم کی تعمیر میں حصہ ڈالتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز اکثر اوقات قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچاتی ہیں اور سیلابوں اور زلزلوں کے دوران رلیف کی خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ فوج کے زیرِ انتظام چلنے والے کئی ادارے مثلاً اسکول، کالج، ہسپتال سویلینز کو بھی گراں قدر خدمات فراہم کرتے ہیں۔
اللہ پاک ہمارے وطن اور محافظوں کی مدد فرمائے۔
آمین۔
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements