محترم صدر عالی وقار!! عزیز سامعین کرام!! السلام علیکم,
آج میری تقریر کا عنوان کچھ ایسا ہے کہ مجھے یقین ہے تقریر کے اختتام تک یہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں پُرنم ہوں گی اور دماغ کے پردے میں پرانا وقت فلم کی طرح دوڑے گا۔

عزیز لوگوں!
اسکول کا آخری دن متضاد کیفیات کا حامل ہوتا ہے۔ اس دن سخت بندشوں میں جکڑی روٹین اور پڑھائی سے آزادی بھی ملتی ہے، جبکہ کئی سال وہاں گزارنے کے بعد وہاں سے جاتے ہوئے دل اداس بھی ہوتا ہے۔

طلبا اپنے اسکول کے آخری دن کو مختلف انداز سے یادگار بناتے ہیں۔ کئی طلبا کچھ ایسا کرتے ہیں جو ان کے اسکول اور پیچھے رہ جانے والے ان کے دیگر جماعتوں کے طلبا کو یاد رہے اور اس کے لیے وہ انوکھے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔

عزیز سامعین!
میرے ساتھ بھی کچھ یہی ہوا اور ان اساتذہ سے بچھڑنے کا بھی غم ہوا جو اس پوری اسکول کی زندگی میں برے لگے اور وہ ہم جماعت جن سے بہت اچھی بات نہیں ہوتی تھی ان سے آخری مرتبہ گلے لگتے ہوئے بھی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔ اس دن سب دوستوں نے  کہا تھا ہم رابطے میں رہینگے لیکن دل گواہی دے رہا تھا اور یہ دنیا کا دستور بھی ہے کہ انسان جہاں جائے وہیں کا ہوکر رہ جاتا ہے سو سب دوستوں نے زندگی کا اگلا سفر شروع کیا ، راہیں الگ ہوئیں اور دنیا کی اس بھیڑ میں میرے دوست گُم ہوگئے۔ وہ جن سے روز بات ہوتی تھی جن کے ساتھ گھنٹوں گزرتے تھے اب ان سے بات کرنے کے لیے وقت نکالنا پڑتا ہے۔

احبابِ کرام!
وہ اساتذہ جن کی باتیں کبھی اہمیت کی حامل نہیں ہوتی تھیں اس روز وہ باتیں یاد آنے لگیں اور ان کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ اس آخری دن اسکول کے ہر کارنر پر کی گئی تفریح میری آنکھوں کے سامنے گھوم گئی اور یوں لگا کہ دل کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا ہے۔ اس روز ہم سب کے لیے یہ خیال ہی جان لیوا تھا کہ ہماری جگہ اب کوئی اور لے لے گا۔

صدر عالیٰ وقار!
کہتے ہیں اسکول کا زمانہ بہترین زمانہ ہوتا ہے اور اس کا اندازہ ہمیں اس آخری دن ہی ہوا کہ واقعی اب یہ جگہ جہاں دن کا بہت سا وقت گزرتا تھا اب یہ جگہ شاید ہم سالوں میں کبھی دیکھیں۔ اس دن ہمیں سب سے زیادہ دکھ اپنے دوستوں سے بچھڑنے کا ہوا تھا۔ ہم نے جو بہت خواب دیکھے تھے زندگی بھر کے لیے اس دن دل کیا کہ وقت ہی رک جائے۔  اس دن کی مناسبت سے کسی شاعر کے کچھ اشعار پیش کرنا چاہوں گا؀

بڑے اتاولے تھے جانے کو
زندگی کا اگلا پڑاؤ پانے کو
پر نہ جانے کیوں آج خیال آتا ہے
وقت کو روکنے کا جی چاہتا ہے
جن باتوں کو لے کر روتے تھے
آج ان پر ہنسی آتی ہے
نہ جانے کیوں، ان پلوں کی یاد بہت ستاتی ہے

اس دن تمام طلباء اپنے دل کی باتیں کررہے تھے کیونکہ انھیں علم تھا کہ اب انھیں یہ موقع شاید دوبارہ نہ ملے۔

کہیں ان کہیں ہزاروں باتیں رہ گئیں
نہ بھولنے والی کچھ یادیں رہ گئیں

صدر عالیٰ وقار اس دن جو ڈر ہر بات پر غالب تھا وہ اس بات کا تھا کہ اب ہمارے بہترین دوست اجنبی بن جائیں گے۔

کچھ اشعار عرض کرنا چاہوں گا؀

بس اِک بات سے ڈر لگتا ہے دوستوں
کہیں ہم اجنبی نہ بن جائیں دوستوں
زندگی کے رنگوں میں کہیں دوستی کا رنگ پھیکا نہ پڑجائے
کہیں ایسا نہ ہو دوسرے رشتوں کی بھیڑ میں  دوستی دم توڑ جائے
زندگی میں ملنے کی فریاد کرتے رہنا
اگر نہ مل سکے تو کم سے کم یاد کرتے رہنا

اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ اللہ میرے تمام دوستوں کو کامیاب کرے۔ آمین۔
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements