جناب صدر عالی وقار ہم وطنو! السلام علیکم! آج کی میری تقریر کا عنوان میرا ملک میری عظمت میرا پاکستان ہے۔

۱۴ اگست ۱۹۴۷ کے دن ایک سبز ہلالی پرچم دنیا کے نقشے پر اُبھرا، ایک ایسی مملکت جس کے حصول کے لیے لاکھوں لوگوں نے جانیں قربان کی لیکن آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ قائد کی انتھک محنت، کاوش اور قربانیوں کا زندہ پیکر، اے سوہنی دھرتی تیری آزاد اور پاک فضائیں ہی تو بھاتی ہیں تیرے متوالوں کو، تیرے بیٹے سرحدوں پار اور سرحدوں کے اندر بھی دہشت گردوں اور تیرے دشمنوں کے سامنے سینہ سپر ہیں۔
تیرے گلستان، پربت، جھیل، دریا تیرے حسن و پاکیزگی کے عکاس ہیں۔ اس آزادی کو محسوس کرو ان پاک فضاؤں میں، اس مٹی کی سوندھی مہک میں رب کا شکر ادا کرو۔ اس بیش قیمت نعمت کے لئے، اے عزیزِ من سب پاکستانیوں کا عزم ہے تیری سلامتی اور تیری ترقی، آزادی کا جشن برپا ہے۔ اس وطن کی گلیوں، محلوں میں، آزادی کی خوشی عیاں ہے ان سبز پوشاکوں ان چمکتے چہروں سے۔شاعر نے محب الوطنی میں بہت خوب لکھا؀

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

عالی وقار!
ہم کسی بیرونی مُلک میں قیام پذیر ہوں، تو ہمیں پاکستانی جانا جاتا ہے۔ سندھی یا بلوچی، سرحدی یا پنجابی نہیں۔ ہمارے کارہائے نمایاں کسی پشتو یا پنجابی بولنے والے کی میراث نہیں ہیں، بلکہ اردو بولنے والے پاکستانیوں کی شناخت ہیں۔ ہماری سرگرمیاں کسی کشمیری اور آرائیں جیسی برادری کے لیبل کی مرہونِ منت نہیں ، بلکہ ہماری خدمات جلیلہ پاکستان کی وجہ سے نمایاں ہیں۔ ہمارا نام، انعام اور مقام صرف پاکستان ہے۔ ہمیں پاک سرزمین کی محبت میں رقصاں ہونا چاہئے۔ ہمیں اپنے دیس، اپنی ماں کو ادب و پیار دینا چاہئے کہ وطن کے درو دیوار کی چادر عصمت کی طرح مقدس ہیں۔ اس کا نظریہ ماں باپ کے عقیدے اور ایمان کی صورت جگمگاتا ہے۔

جناب صدر!
کسی سیانے کا قول ہے کہ محبّت قربانی مانگتی ہے، عشق صلے سے بے پرواہ ہوتا ہے، اور پیار دینے اور دیے جانے کا نام ہے۔ اور اگر اس پہلو سے پرکھا جائے تو سب سے پہلے جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس ملک کو کیا دے رہے ہیں؟ اجتماعی سطح پر یہ سوال اٹھانے سے پہلے آئیے ذرا انفرادی طور پر خود سے یہ سوال پوچھیں۔

ملک بھر میں صفائی، گندگی، اور بلدیاتی اداروں کی نااہلیوں پر تبصرہ کرتے ہم خود بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں جو گاڑی میں سفر کرتے ہوئے کھڑکی کھول کر ریپر اور تھیلیاں باہر سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ ٹریفک جام میں پھنسنے پر ٹریفک پولیس کو برا بھلا کہتے کہتے ہم خود بھی کئی گاڑیوں کا راستہ روکتے خود پہلے نکل جانے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ رشوت کو برا کہتے اور رشوت لینے والے افسروں اور اداروں پر لعنت ملامت کرتے ہم خود بھی ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ یا دیگر کاغذات بنوانے، یہاں تک کہ ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر (جو کہ سراسر ہماری غلطی ہوتی ہے) چالان کروانے کے بجائے رشوت دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

تعلیم کے معیار اور تعلیمی اداروں میں تفریق پر ماتم کرتے ہم خود اس سسٹم میں تبدیلی لانے کے بجائے کوچنگ سینٹرز اور پرائیویٹ ٹیوشن کے کلچر کو فروغ دینے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ بجلی کے بحران پر آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ کنڈا سسٹم پر اپنے گھروں میں اے سی چلانے اور بجلی چوری کے مرتکب ہونے والے بھی تو ہم ہی ہیں۔ وقت آگیا ہے اپنے ملک کی خاطر اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔ آئیں مل کر اس کی بقا کی جنگ لڑیں۔
اللہ میرے ملک کی حفاظت فرما۔
آمین ثم آمین
شکریہ۔

Advertisements