>

محترم صدر و معزز حاضرین کرام! آج میری تقریر کا موضوع ہے عورت کے حقوق یا حقوقِ نسواں۔

جناب والا!
حقوقِ نسواں سے مراد وہ حقوق ہیں جو قانونی استحقاق ہیں۔ جن کا مطالبہ دنیا کے بہت سے معاشروں میں خواتین اور لڑکیوں کی طرف سے کیا جاتا ہے اور جن کے مطالبہ نے انیسویں صدی کی حقوقِ نسواں تحریک اور بیسویں صدی کی تحریکِ نسائیت کو بنیاد فراہم کی۔ دنیا کے کئی ممالک میں ان حقوق کو قانونی اور سماجی تحفظ حاصل ہے لیکن بہت سے ممالک میں ان حقوق کو غصب یا نظر انداز کیا جاتا ہے۔

حقوقِ نسواں کی اصطلاح میں تمام انسانی حقوق شامل کیے جا سکتے ہیں لیکن عمومی طور پر اس موضوع میں وہی حقوق شامل کیے جاتے ہیں جن کے استحقاق کے حوالے سے معاشرہ مرد اور عورت کے درمیان فرق روا رکھتا ہے۔ چنانچہ حقوقِ نسواں کی اصطلاح عام طور پر جن حقوق کے لیے استعمال کی جاتی ہے ان میں خواتین کے لیے جسمانی تحفظ کی یقین دہانی، معاشی خود مختاری، جنسی استحصال سے تحفظ، حکومتی اور سماجی اداروں میں برابری کی بنیاد پر ملازمتیں، مردوں کے برابر تنخواہیں، پسند کی شادی کا حق، افزائش نسل کے حقوق، جائداد رکھنے کا حق اور تعلیم کا حق شامل ہیں۔ حقیقت نسواں، مقام نسواں، تعلیم نسواں، حقوق نسواں، اہمیت نسواں کے حوالہ سے علامہ اقبال کا یہ شعر سب سے زیادہ خوبصورت ہے؀

وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

مشرق ہو یا مغرب، خواتین کا مقام وہاں کی معاشرتی اقدار اور روایات کے مطابق ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ دور میں دونوں ہی طرح کے معاشروں میں خواتین کے روایتی کردار میں تبدیلی آئی ہے۔ خواتین اب اپنی روایتی ذمہ داریاں پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ زندگی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ خواتین میں تعلیم حاصل کرنے کا بڑھتا رجحان ہے۔ عورتوں کی تعلیم کی اہمیت کا شعور اب دنیا کے ان قدامت پسند معاشروں میں بھی اجاگر ہونے لگا ہے جہاں والدین لڑکی کی پیدائش سے ہی زر اور زیور جمع کرنے کی فکر میں گُھلنا شروع ہو جاتے تھے کیونکہ انہیں اپنی بیٹی کو بیاہنے کا بندوبست کرنا اپنا اولین فریضہ لگتا تھا۔ جیسے جیسے لڑکیاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے لگیں، ویسے ویسے والدین کے کندھوں پر سے یہ بوجھ کم ہونا شروع ہو گیا۔

اگرچہ پاکستان میں عورتوں کے مسائل کے حوالے سے بیداری میں اضافہ ہوا ہے اور آج مختلف سماجی شعبوں میں عورتیں پہلے کی نسبت زیادہ دکھائی دیتی ہیں لیکن پاکستانی معاشرہ آج بھی مردانہ بالادستی کے اصول پر قائم ہے اور اپنے جسمانی اور مالیاتی تحفظ کے لیے مردوں پر انحصار کرتا ہے۔

جناب والا
مزید یہ کہ وہ سماجی اور ثقافتی سوچ جو عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے، اسی طرح موجود اور مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ جہاں معاشرے میں مذہبی انتہا پسندی میں اضافے سے عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ہونے والی کامیابیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں، وہیں بالائی سطح پر قانونی اور عدالتی نظام بھی معاشرے میں عورتوں کے مقام میں اضافہ کرنے میں مددگار دکھائی نہیں دیتا۔ علامہ کے قطعہ پر اجازے چاہوں گا؀

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت
بیگانہ رہا دین سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کیلئے علم و ہنر موت

شکریہ

Close Menu