Advertisement

محترم صدر، میرے اساتذہ کرام اور میرے ساتھیوں السلام علیکم!!

Advertisement

آج مجھے جس موضوع پر لب کشائی کا موقعہ ملا ہے وہ اس دن کے متعلق ہے جب تمام طلبہ کو ان کی سال بھر کی محنت یا پھر شرارتوں کے نتائج کا سامنا ہوتا ہے۔

Advertisement

جی میں بات کررہا ہوں ہمارے سالانہ نتائج کا اعلان ہونے والے دن کی۔ جب کچھ طلبہ تو نہایت اکڑ کر اپنے نتائج اپنے والدین کو دکھاتے ہیں، کچھ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہیں جب کہ بہت سے طلبہ شرمندہ اور اداس بھی نظر آتے ہیں۔

Advertisement

جناب عالی یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارے نتائج کا اعلان طلبہ کی ذہنیت کو مدِ نظر رکھ کر نہیں بلکہ ان کے یاد کرنے کی صلاحیت کو مدِ نظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ وہی استاد بچوں کو سارا سال پڑھاتا ہے، وہی امتحان لیتا ہے اور وہی استاد طلبہ میں درجات تقسیم کردیتے ہیں۔۔ اور کچھ طلبہ تو ٹیوشن بھی ان ہی اساتذہ سے پڑھتے ہیں اور پھر نتائج آنے کے بعد مزہ تو تب آتا ہے جب دوم درجے پر آنے والا طالب علم دسواں درجہ حاصل کرنے والے سے زیادہ دکھی نظر آتا ہے۔

اس روز اول، دوم اور سوم آنے والے طلبہ ہی زیادہ تر گھبرائے نظر آتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ بھی ہوا تھا جب آٹھویں جماعت میں میرا نام پکارا گیا اور مجھے یقین نہ آیا تھا کہ واقعی میں اس بار اول درجے پر آیا ہوں۔ ایسا تو نہیں کہ میں اچھا طالب علم نہیں لیکن اس وقت کی کیفیت کو بیان کرنا خاصہ مشکل امر ہے۔

Advertisement

میرے ساتھیو اس دن ہمارے پریشان ہونے سے کچھ نہیں ہوسکتا بلکہ ہمیں چاہیے کہ سارا سال محنت کریں تاکہ اس روز پُرسکون ہوں اور اس دن ہمیں شرمندہ نہ ہونا پڑے بلکہ ہمارے والدین کو علم ہو کہ ہم نے محنت کی تھی۔ میں والدین سے بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ کی اولاد کو کبھی کسی سے مت ملائیں۔ آپ کی اولاد اگر محنت کررہی ہے تو یہی ان کی اور آپ کی کامیابی ہے اس لیے محنت پر دھیان دینا چاہیے نہ کہ نمبروں پر، یہی ہماری جیت ہے۔

جناب آخر میں بس یہ ہی کہنا چاہوں گا کہ یہ امتحان بلاشبہ اہمیت کے حامل ہیں لیکن ان نتائج کی بنا پر طلبہ کی صلاحتیوں کا اندازہ لگانا سرا سر ناانصافی ہے اور پھر طلبہ کو ڈانٹنا، ان کے ہنر کو نہ ماننا بھی ان طلبہ کے ساتھ زیادتی ہے۔

Advertisement

ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر شخص ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت سے شعبے ہیں اور پڑھائی کی اہمیت سے منع نہیں لیکن پڑھائی انسانی زندگی کی پہلی ترجیح نہیں بلکہ دین ، اندرونی سکون، رشتہ دار اور خاندان ہماری ترجیحات میں شامل ہونا ضروری ہے تب ہی ہمارا معاشرہ کامیاب ہوسکے گا اور ہم لوگ پُرسکون زندگی گزار سکیں گے۔

ہمیں چاہیے ہم دنیاوی تعلیم کی اہمیت کو جانتے ہوئے دینی تعلیم کو بھی ساتھ لے کر چلیں اور علم حاصل کرنے کے لیے پڑھیں نہ کہ مقابلہ کرنے کے لیے ، تب ہی ہم کامیاب ہوسکیں گے۔
شکریہ

Advertisement

Advertisement

Advertisement