السلام علیکم۔۔۔
جناب صدر معزز سامعین!
آج میری تقریر کا عنوان پشاور کا آرمی پبلک سکول ہے آپ سب کی توجہ کا طالب ہوں۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ۱۴۱ شہید کیئے گئے جن میں بیشتر تعداد بچوں کی تھی۔

۱۶ دسمبر ۲۰۱۴ کو تحریک طالبان پاکستان کے ۷ دہشت گرد ایف سی (فرنٹیئر کور) کے لباس میں ملبوس پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں پچھلی طرف سے داخل ہو گئے اور ہال میں جا کر اندھا دھند فائرنگ کی۔اس کے بعد کمروں کا رخ کیا اور وہاں پر بچوں کو گولیاں ماریں، سربراہ ادارہ کو آگ لگائی۔ ۹ اساتذہ، ۳ فوجی جوانوں کو ملا کر کل ۱۴۴ ہلاکتیں اور ۱۱۳ سے زائد زخمی ہوئے۔

ہلاک ہونے والے ۱۳۲ بچوں کی عمریں ۹ سے ۱۸ سال کے درمیان تھیں۔ پاکستانی آرمی نے ۹۵۰ بچوں و اساتذہ کو اسکول سے باحفاظت نکالا۔ ایک دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ ۶ مارے گئے۔
یہ پاکستانی تاریخ کا مہلک ترین دہشت گردانہ حملہ تھا، جس نے ۲۰۰۷ کراچی بم دھماکا کے واقعہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ مختلف خبر رساں اداروں اور مبصرین کے مطابق، عسکریت پسندوں کی یہ کارروائی ۲۰۰۴ میں روس میں ہونے والے بیسلان اسکول پر حملے سے ملتی جلتی ہے۔

عالی وقار!
حملہ ۱۶ دسمبر کو دن کے دس بجے اس وقت ہوا جب ۷ مسلح افراد پاکستانی فرنٹئیر کور کی وردی میں تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسند اسکول سے ملحقہ قبرستان کے ساتھ اسکول کی دیوار توڑ کر اندر گھس گئے۔ اسکول میں داخل ہونے سے پہلے انہوں نے اس سوزوکی بولان ایس ٹی ۴۱ کو آگ لگا دی، جس میں وہ اسکول تک آئے تھے۔ دہشت گرد خود کار ہتھیاروں سے لیس، سیدھے اسکول کے مرکزی ہال میں داخل ہوئے اور سیدھا فائر کھول دیا، ہال میں اس وقت نویں اور دسویں کلاس کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی جا رہی تھی۔۔پاکستانی فوج کے ترجمان، میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق دہشت گرد کسی کو یرغمال بنانے نہیں آئے تھے، بلکہ وہ اسکول کے بچوں کوقتل کرنے کے لیے ہی آئے تھے۔

واقعے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن خیبر ون کے جواب میں ہے۔

سارے واقعے کے بعد حکومت پاکستان نے تین روز تک سوگ کا اعلان کیا۔ اس دوران پاکستانی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔ پاکستان میں پھانسی کی سزا پر عمل درامد کی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ پابندی صرف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کے لیے ختم کی گئی ہے۔

مزید اضافے کے لئے جناب صدر!
حملے کے فوری بعد بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے کہنے پر بھارت کے ہر اسکول میں ان متوفی بچوں کے لیے دو منٹ کی خاموشی اور دعائیہ اجتماعات منعقد ہوئے جس میں سبھی بچوں نے بلا تفریق مذہب حصہ لیا اور اپنی انسانیت دوستی کا ثبوت دیا۔ بھارت کے عوام نے اس بات کی کوئی پروا نہیں کی کہ یہ بچے پاکستانی تھے یا مسلمان تھے یا پھر یہ کہ پاکستانی فوجیوں کے فرزندان تھے۔
اسی کے ساتھ اپنی تقریر کا اختتام چاہوں گا۔۔۔
فی آمان اللہ

Advertisements