جنابِ صدر، میرے علم دوست و صاحب، بصیرت ساتھیو! السلام علیکم! آج میری تقریر کا عنوان نظریہ پاکستان ہے۔ عالی وقار! اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی آل انڈیا مسلم لیگ کا ۲۷ واں سالانہ اجلاس مارچ ۱۹۴۰ء لاہور میں ہوا۔ مسلمانان ہند کا ایک عظیم الشان اجتماع تھا جس کے لئے اقبال اپنی زندگی کے آخری ایام میں نہایت آرزومند تھے۔

اس اجلاس میں بتاریخ ۲۳ مارچ مسلمانان ہند کے لئے مستقل مملکت کی قرارداد منظور ہوئی۔ قائداعظم نے ۲۲ مارچ کے اجلاس میں اپنے صدارتی خطاب میں ہندو مسلم دونوں قوموں کے مختلف اور متضاد نظریات و روایات قرار دیا تھا۔نظریہ پاکستان سے مراد یہ تصور ہے کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان، ہندوؤں، سکھوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے ہر لحاظ سے مختلف اور منفرد ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح اساس دین اسلام ہے اور دوسرے سب مذاہب سے بالکل مختلف ہے، مسلمانوں کا طریق عبادت کلچر اور روایات ہندوؤں کے طریق عبادت، کلچر اور روایات سے بالکل مختلف ہے۔

اسی نظریہ کو دو قومی نظریہ بھی کہتے ہیں جس کی بنیاد پر ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان وجود میں آیا۔ ہم وطنو! نظریہ پاکستان اصل میں نبی کریمﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں بننے والی ایک ریاست ہے۔ اسلام ایک فراخ دلانہ‘ مساوات‘ بھائی چارے اور انسانی رشتوں‘ رویوں کو اہمیت دینے والا مذہب ہے۔ اسلام میں ہر انسان کیلئے پناہ ہے ۔ یہاں کم تر اور اعلیٰ غریب اور امیر ہر شخص برابر ہے۔ یہاں اونچ نیچ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام میں کوئی شودر نہیں۔ اسلام میں کوئی کمتر نہیں۔ اقبال نے جیسے کہ ہمیں اپنے اس شعر سے بتادیا تھا؀

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز 
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

سامعین! نظریہ پاکستان‘ جسم پاکستان کی روح ہے۔ جس کی اہمیت و افادیت پاکستان کی زندگی کیلئے لازمی ہے۔ اس لئے نظریہ پاکستان ہر پاکستانی کے قول و عمل میں تندرست و توانا رہنا چاہئے۔ برصغیر پاک و ہند میں تقسیم برصغیر سے پہلے ہندو مسلم اور دیگر اقوام مل کر رہتے۔ ہندو غالب اکثریت میں تھے۔ ان کی تہذیب‘ طرز بود و باش‘ فکر و نظر کردار و عبادات‘ طرز معاشرت و معیشت متضاد و متصادم تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب دونوں بڑی قوموں کا ایک ہی ملک میں جمہوری طرز حکومت کے ساتھ رہنے کے آثار ناپید ہو گئے تو رہبران و زعما و ذمہ داران مسلم امہ نے اپنے لئے علیحدہ وطن کے حصول میں ہی عافیت و خیریت محسوس کی۔

جناب والا! پاکستان عصرِ حاضر میں جن خوفناک اور اندوہناک سیاسی اور قومی منجدھار میں پھنسا ہے ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہمیں قرآن و سنت کی امداد کی ضرورت ہے اور قیام پاکستان کے جذبات کو مکمل طور پر اپنانے کی ضرورت ہے ورنہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا انہی اہم ترین مقاصد کے حصول کے لئے نظریہ پاکستان کو دوبارہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، اکثر و بیشتر دانشوران نظریہ پاکستان کی تفہیم میں ڈنڈی مار جاتے ہیں جو کسی بھی طرح قومی ترقی اور عروج کا باعث نہیں بن سکتا۔ اپنی تقریر اسی شعر کے ساتھ ختم کروں گا۔۔۔ بقول اقبال؀

بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں 
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ.

Advertisements