گاؤں کی آنکھ سے بستی کی نظر سے دیکھا
ایک ہی رنگ ہے دنیا کو جدھر سے دیکھا

عالی وقار صدر معزز سامعین اکرام! السلام علیکم!
امید ہے بخیرو عافیت سے ہونگے سب۔ آج کی میری تقریر کا عنوان گاؤں ہے آپ سب کی سماعتوں اور توجہ کا طالب ہوں۔

جناب صدر!
گاؤں ایک ایسے علاقے کو کہتے ہیں جہاں کچھ لوگ گھر بنا کر اکٹھا رہتے ہوں مگر ان کی تعداد بہت زیادہ نہ ہو۔ زیادہ تر دیہات میں ہوتے ہیں۔ عموماً گاؤں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پیشۂ زراعت پر منحصر ہوتا ہے۔ ایک گاؤں، محلہ سے بڑا اور قصبے سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اکثر گاؤں کی آبادی یا تو سینکڑوں میں ہوتی ہے یا ہزاروں میں۔ شہر کے بہ نسبت گاؤں میں سہولیات (جیسے ہسپتال،اسکول،وغیرہ) کم ہوتے ہیں۔ تاہم گاؤں فطرت کے زیادہ قریب ہوتا ہے یعنی وہاں درخت،پودے،چشمے وغیرہ ہوتے ہیں۔ اور عام طور پر گندگیاں کم ہوتی ہیں۔ اس لیے گاؤں میں شہر کے بہ نسبت بیماریاں کم ہوتی ہیں۔

سامعین!
دیہات کے لوگ بہت سادہ اور صاف گو ہوتے ہیں۔ وہ اپنے طور پر ایک سادہ خوش وخرم اور مطمئن زندگی گزارتے ہیں جو کہ ہمارے شہروں کی جدید زندگی سے قطعی مختلف ہوتی ہے۔ ان کے مکانات بڑے شہروں کے مکانات سے مختلف ہوتے ہیں۔ سرخ اینٹوں سے بنے چند مکانوں کے علاوہ تمام مکان مٹی سے پلاسڑ کئے ہوتے ہیں۔ بیشتر سڑکیں اور گلیاں تنگ اور کچی ہوتی ہیں۔عام طور پر دیہاتی پیدل چلتے ہیں۔ مختصر فاصلوں کے لئے وہ کوئی موٹر کار، ٹیکسی یا بس استعمال نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تندرست اور توانا ہوتے ہیں۔

دیہات میں دن کا آغاز لسی رڑکنے کی آواز سے ھوتاہے۔ دن کو مکئی کی روٹی اور لسی مکھن سہ پہر کو چائے اور مغرب کی اذانوں کے ساتھ رات کا کھانا بھی کھا لیا جاتا ہے۔ شہروں کی بڑی ہوئی حدود سے گاؤں سمٹتے جارہے ہیں جس کو کسی شاعر نے خوب لکھا؀

اک اور کھیت پکی سڑک نے نگل لیا
اک اور گاؤں شہر کی وسعت میں کھو گیا

دیہی پاکستانی رہائشیوں کی اکثریت معاش مویشیوں کی پرورش پر مبنی ہے ، جس میں پاکستان کی مجموعی گھریلو پیداوار کا ایک اہم حصہ بھی شامل ہے۔  دیہی پاکستانیوں کے ذریعہ پلنے والے کچھ مویشیوں میں مویشی اور بکری بھی شامل ہیں۔

دیہات کے لوگ عام طور پر صبح صادق کے وقت اٹھ جاتے ہیں۔ وہ شہر کے لوگوں کی طرح دیر سے سونے کے عادی نہیں ہوتے۔ مرد مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں جبکہ عورتیں گھروں میں نماز پڑھتی ہیں۔

تَنگ دَستی اگر نہ ہو غالب
تَن دُرستی ہزار نعمت ہے

بعض اوقات امیر آدمی بھی کسی ایسی مہلک بیماری کا شکار ہو جاتا ہے کہ دولت کے بے تحاشا انبار کے باوجود وہ صحت کاملہ جیسی نعمت حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے۔ بیماری امیر وغریب میں قطعاً امتیاز نہیں کرتی۔ ترقی یافتہ ممالک میں انسانوں کو صحت و تعلیم کی بہتر اور مفت سہولتیں فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔
گاؤں میں ہسپتال اسکول اور دیگر ضروری سرکاری عمارتیں کھڑی کرنا ریاست پر فرض ہے جس میں آج تک ہم آج کی دنیا سے  ۳۰ سال پیچھے ہیں۔

ملک پاکستان کا اب بھی بیشتر حصہ گاؤں دیہات اور قصبوں پر منحصر ہے جس پر توجہ کی خاص ضرورت ہے۔ آخر میں اجازت اس دعا کے ساتھ۔
دعا ہے وطن عزیز کے نصف کو ہم ساتھ لے کر چلیں۔
فی امان اللہ۔
شکریہ۔

Advertisements