Advertisement

السلام علیکم حاضرین!!
آج ایک ایسے موضوع پر لب کشائی کا موقع ملا ہے کہ جس پر لکھنے کے لیے جب قلم تھاما تو دماغ میں بےپناہ سوچوں کا انبار سا لگ گیا۔
صدر عالی وقار اور عزیز سامعین چند ساعت کے لیے آپ کی توجہ کا طالب میں آج موضوع “بیٹی” پر لب کشائی کرنے آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ صدرِ محفل اجازت طالب ہوں۔

Advertisement

میرے ساتھیوں جب لفظ “بیٹی” ادا کیا جاتا ہے تو دماغ کے کسی کونے میں کہیں وہ دور یاد آتا ہے کہ جب رسول اکرم صلی علیہ وآلہ وسلم کے دور سے پہلے زمانہ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔ ایسا سوچتے ہی روح کانپ اٹھتی ہے اور آنکھیں نم ہوجاتی ہیں لیکن سامعین ضرورت اس بات کی ہے کہ توجہ دی جائے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔

Advertisement

اگر آج بیٹی کو زندہ دفن نہیں کیا جاتا تو اسے بیٹے جتنا مقام بھی تو نہیں دیا جاتا۔ صدرِ عالی وقار توجہ طلب بات تو یہ ہے کہ آج بھی بیشتر دیہاتی علاقوں میں عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے اور ہمارے نبی نے بیٹی کو جو رتبہ دیا اور اسے رحمت کہا، اسی رحمت کو زحمت کہا جاتا ہے۔

عزیز سامعین سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ آج بھی عورت کو گوشت کا لوتھڑا یا پھر ایک موقع ہی تو سمجھا جاتا ہے ورنہ وہ پھول سی زینب بھی تو کسی کی بیٹی تھی۔ کیا اس معصوم کی عزت سے کھیلتے یا اسے موت کے منہ میں بھیجتے ہوئے اس ظالم کو اس ننھی کلی پر ذرا رحم نہ آیا ہوگا۔
یہاں میرے مخاطب صرف وہ لوگ ہی نہیں جو بیٹیوں کو زحمت سمجھتے ہیں بلکہ وہ بیٹیاں بھی ہیں جو رحمت کی بجائے زحمت بنتی ہیں اور اپنی وجہ سے اپنے پیچھے دس لڑکیوں کی آزادی کا حق چھین لیتی ہیں۔

Advertisement

بیٹی ہونے کا حق ہے کہ باپ اور بھائی کی عزت کی حفاظت کی جائے اور اگر ایک بیٹی باپ کی عزت کی محافظ نہیں بن سکتی تو معذرت کے ساتھ وہ رحمت ہرگز بھی نہیں۔

کہتے ہیں تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اور ایسا ہی ہے کہ کہیں قصور والدین کا ہے تو کہیں قصور وار بیٹیاں بھی ہیں۔ لیکن صدر عالی وقار ہمارے نبی نے جب بیٹیوں کی پرورش کے بدلے جنت میں اپنے ساتھ کا وعدہ کیا ہے تو مجھے وہ لوگ اسلام سے بہت دور نظر آتے ہیں جو اس رحمت کو زحمت سمجھتے ہیں اور جو اس رحمت کے حصول پر رب کا شکر کرنے کے بجائے ناشکری کرتے ہیں۔ انھیں بیٹوں کے برابر کا حق نہیں دیتے۔ یہاں میرا مقصد موازنہ کرنا نہیں لیکن جس پیار کے حق دار بیٹے ہیں، اسی پیار کی حقدار بیٹیاں بھی ہیں۔

Advertisement

میری دعا ہے کہ بیٹیوں کو بیٹی ہی سمجھا جائے اور انھیں اسلام کے دیے گئے مقام اور حقوق کو سمجھتے ہوئے انھیں اپنی محبت کا حق دار سمجھا جائے۔
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ

Advertisement