السلام علیکم صدرِ وقار اور عزیز سامعین!!
آج جس موضوع کو زیرِ بحث لانے کا موقع ملا ہے وہ ہے "آزادی” جس کے متعلق بات کرنے کے لیے مجھے آپ سب کی سمعتیں چند ساعت کے لئے درکار ہیں!!!

جناب آزادی کی قدر صرف وہی جانتا ہے جس نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہوں۔ مسلمانوں کی آزادی کے متعلق بات کریں تو مسلمانوں نے بہت عرصہ ہندوستان پر حکومت کرنے کے بعد ۱۸۵۷ کی جنگ میں اپنی آزادی کو کھویا جب مسلمانوں کے بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو قید کر کے رنگون بھیج دیا گیا اور انھیں دفن ہونے کے لیے بھی ہندوستان میں جگہ نہ مل سکی؀

         کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن  کے لیے
دوگززمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
(بہادر شاہ ظفر)

اس کے بعد مسلمانوں کے عروج کو زوال ملا اور مسلمانوں نے طرح طرح کی سختیاں برداشت کیں۔ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو بیدار کر کے ان کی توجہ تعلیم کی جانب مبذول کروائی اور ایک لمبے سفر کو طے کرنے کے بعد قائداعظم کی صدارت میں مسلمانوں نے آزادی حاصل کی۔

آزادی ، کیا ہے یہ آزادی؟
آزادی کھلی فضا میں سانس لینا ہے ، آزادی اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنا ہے۔۔۔ جنابِ عالیٰ آزادی وہ ہے جس کے لیے ہزاروں ماؤں نے اپنے بیٹے قربان کیے اور آزادی وہ ہے جس کے لیے ہزاروں بہنیں بیٹیاں اپنی عزتوں کی حفاظت کی خاطر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔
اس آزادی کی قدر صرف اسی کو ہو سکتی ہے جس کے سینے میں دل موجود ہو وگرنہ ہزاروں لوگوں کے لقمئہ اجل بن جانے سے بھی انسان کو آزادی کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوگا۔

عزیز سامعین
آج جب ہم ہندوستان میں موجود مسلمانوں کو مظالم کا شکار بنتا دیکھتے ہیں تو ہمیں قائداعظم کے احسان اور ان کے دو قومی نظریے کی دور اندیشی کا اندازہ ہوتا ہے کہ اگر اس وقت پاکستان حاصل نہیں کیا جاتا تو آج ہم پُرسکون نیند نہیں سو سکتے تھے۔

صدر عالیٰ وقار جب ہم کشمیریوں کو اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتا دیکھتے ہیں تو ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے۔ آپ کی توجہ کا طالب میں یہ کہنے پر بھی مجبور ہوں کہ آج کے دور کے پاکستانی شخص کو آزادی کی اس قیمت کا اندازہ نہیں ہے کیونکہ ہم نے قید کو محسوس نہیں کیا لیکن جو حالات ہیں اگر مسلمانوں نے ان حالات کو اپنے قابو میں نہ کیا تو وہ وقت بھی دور نہیں جب ہم خود کو آزاد نہیں کہہ سکیں گے۔

صدر عالی وقار اپنی بات کے اختتام پر پاکستان کی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے عرض کرنا چاہوں گا۔


"خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل ، جسے اندیشہِ زوال نہ ہو"

آپ سب کی سماعتوں کا بہت شکریہ

Advertisements