>

صدر محترم و عزیز حاضرین محفل! ارکان اسلام میں نماز کا درجہ دوسرا ہے اور اعمال میں پہلا۔ نماز نبوت کے گیارھویں برس ہجرت سے دو سال چند ماہ قبل فرض قرار دی گئی۔ اس کی فرضیت کا حکم شب معراج لامکاں میں محب ،عبد اور معبود کی ملاقات کے وقت ہوا۔ عزیزو! نماز کی پنج وقت ادائیگی کا حکم اور ترغیب قرآن مجید فرقان حمید میں ہے۔طریقہ ادائیگی کی تمام تر تفاصیل احادیث بنویہ اور سنت مصطفیٰ ﷺ میں مرقوم و محفوظ ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے امت مسلمہ اپنے معبود حقیقی و حدہ لاشریک کی بارگاہ الوھیت میں سر عبودیت خم کرتی چلی آرہی ہے۔

جناب والا! نماز کی ادائیگی کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔ لیکن اس کی ادائیگی کی تفصیلات مرتب کرتے وقت حقوق العباد کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ شریعت محمدیﷺ نے اس سلسلے میں اول تا آخر ظاہر و باطن گھر اور باہر امن و جنگ ہر جگہ بشری کمزوریوں سے مجبوریوں کو مدنظر رکھا ہے اور یہ طرز فکر دین اسلام کے مکمل ظابطہ حیات ہونے کے بین دلائل میں سے ایک ہے۔مثلأ دوران سفر انسان گھر جیسی سہولیات سے استفادہ نہیں کرسکتا وقت کی تنگی،سفر کی صعوبت اور تھکان کے باعث فرض نماز قصر کرکے ادا کرنے کا حکم بدرجہ واجب ہے۔

صدر گرامی! روحانی فیوض و برکات کا ایک لامتنا ہی سلسلہ ہے جس سے نمازی کی روح،عالم دنیا ،عالم آخرۃ میں فیض یاب ہوتی رہے گی۔حالت نماز میں انسان پر رحمت رب تعالیٰ برستی ہے ہر نمازی اپنی روحانی بالیدگی اور وسعت ظرف کے مطابق نماز کے وسیلےگاہ صمدیت اور ربوبیت میں قرب حاصل کرتا ہے۔ میرے عزیز دوستو! نماز قائم کرنے سے معاشرے میں بسنے والے افراد کے قلوب وادہان پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اس سے ایک مثالی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔مثلأ ذاتی صفائی ،نگاہ،رزق،لباس اور جگہ کی پاکیزگی کا قطعی خیال نہ رکھنا،نمازی کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے۔۔

جناب والا! نماز،تمیز بندہ و آقا کو ختم کرتی ہے کیونکہ یہاں قبولیت کا معیار تقویٰ ہے۔مال وزر عہدہ و اقتدار نہیں یہاں خلوص نیت،تقویٰ اور خشوع و خضوع ہے جو سید المرسلین خاتم نبیینﷺ کے خطبہ حجتہ الوداع میں کہی گئی۔اس حقیقت کو یاد دلاتی ہے کہ کسی گورے کو کالے پر کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں مگر تقویٰ کی بنا پر ۔

میرے دوستو! قراں میں نماز کے بارے ارشادات آپ کے گوش گزار کر رہا ہوں. اور نماز قائم کرو میری یاد کے لئے۔ کامیاب ہوگئے وہ مومن جو نماز اللہ تعالیٰ کے خوف سے ادا کرتے ہیں. بے شک نماز برائی اور بےحیائی سے روکتی ہے۔ صبر و نماز سے استقامت حاصل کرو۔ بےشک نماز مسلمان پر مقرر اوقات میں فرض ہے۔ اب کچھ احادیث کی روشنی میں۔ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔جس نے اسے قائم رکھا اس کا دین قائم رہا اور جس نے اس کو ترک کیا اس نے دین اسلام کو ڈھادیا۔ جس نے پانچ نمازوں کی محافظت کی اور یقین جانا کہ وہ اللہﷻ کی طرف سے ہیں وہ جنت میں جائے گا۔ اس کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔۔۔ والسلام

Close Menu