قابلِ احترام صدر گرامی، احباب دانش اور کاروان عمل کے باشعور ساتھیو!
السلام علیکم
آج میری تقریر کا عنوان زکوۃ ہے۔۔۔

زکوۃ یا (عربی: زكاة) اسلام کے پانچ ارکان میں سے ايک اہم رکن ہے، جس کے لغوی معنی پاکیزہ کرنا یا پروان چڑھانا ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد غریبوں کی مدد، معاشرتی فلاح و بہبود میں صاحب ثروت لوگوں کا حصہ ملانا اورمستحق لوگوں تک زندگی گزارنے کا سامان بہم پہنچانا ہے۔
اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے۔ زکوۃ کے معنی پاکیزگی اور بڑھنے کے ہیں۔

پاکیزگی سے مراد اللہ تعالٰی نے ہمارے مال و دولت میں جو حق مقررکیا ہے اس کو خلوصِ دل اور رضامندی سے ادا کیا جائے۔ نشو و نما سے مراد حق داروں پر مال خرچ کرنا اپنی دولت کو بڑھانا ہے، جس سے مال میں برکت پیدا ہوتی ہے۔ دین کی اصطلاح میں زکوۃ ایسی مالی عبادت ہے جو ہر صاحب نصات مسلمان پر فرض ہے۔

دوستو!
زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم انفرادی فریضہ ہے جس کا سماج سے گہرا تعلق ہے۔ زکوٰۃ کا مقصد سماج کے نچلے طبقوں اور حالات کا شکار سفید پوشوں کی مالی مدد ہے تاکہ یہ لوگ جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔ زکوٰۃ کا معاشرے میں امن و امان کی بحالی سے بھی گہرا تعلق ہے۔ زکوٰۃ اگر درست ادا کی جاتی ہے تو بہت سی سماجی خرابیاں دور ہوسکتی ہیں۔ مسلم معاشروں میں پائی جانے والی پچانوے فیصد سے زیادہ خرابیوں کی وجہ تقسیمِ وراثت کی بے اعتدالیاں اور زکوٰۃ کا درست مصرف میں ادا نہ کیا جانا ہے۔

اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں فرمایا (جس کا مفہوم ہے )
"کہ نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔”

جناب والا!
قرآن مجید میں زکوۃ کی بابت بیسیوں آیات میں اللہ پاک نے حکم فرمایا ہے اور یہ اسلام کا ایک عظیم رکن ہے ، جو اس کا منکر ہے وہ بالاتفاق کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ زکوۃ نہ دینے والوں پر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جہاد کا اعلان فرما دیا تھا۔

’’ہدایت اور رحمت ہے ان نیک لوگوں کے لیے جو نماز قائم کرتے ہیں زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں، یہی لوگ اپنے رب کی طرف صحیح ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں‘‘
سورۂ توبہ کی آیت (۱۰۳) میں یہ مقصد واضح کیا گیا ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ زکوۃ کے ذریعے وہ زکوۃ دینے والوں کو گناہوں سے پاک کردے، اور ان کے دل مال کی حرص ومحبت سے پیدا ہونے والے اخلاقی رذائل سے پاک وصاف ہوجائیں۔

اگرچہ زکوۃ کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے قوم کے ان نادار اور غریب لوگوں کی مدد ہوتی ہے جو عارضی یا مستقل اسباب کی بنا پر اپنی ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے سے عاجز رہتے ہیں، جیسے یتیم بچے، بیوہ عورتیں، معذور افراد، عام فقراء و مساکین اور اسی طرح کے دوسرے لوگ، زکوۃ ان لوگوں کی اعانت کا بہت بڑا ذریعہ ہے،
آخری بات یہ ہے کہ زکوٰۃ کے ادا کرنے سے مال کی حفاظت ہونے کا خدائی وعدہ ہے۔

سامعین
مستحق تلاش کرکے اسے خود زکوٰۃ دی جائے تو ہی زکوٰۃ ادا ہوگی اور سب سے زیادہ مستحق قریبی رشتے دار ہیں۔ خدا سمجھ دے۔آمین
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔