Back to: اردو تقاریر | Best Urdu Speeches
| اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی |
جناب صدر!
حضرت علامہ اقبال کا پیغام اسلام خودداری کا پیغام ہے۔ بندے کو ہزاروں دروازوں سے چھڑا کر ایک ہی چوکھٹ پر جھکاتا ہے۔ جو اس دروازے پر جھک گیا اس کے لئے اور کوئی مقام ایسا نہیں ہے جہاں اس کی کمر خم اور سر نیچا ہو۔ ہرقسم کا جھکاؤ کی خمیدگی صرف ایک ذات کے لیے ہے۔اس کی حکومت حکومت ہے اور اس کی حاکمیت حاکمیت۔حضرت اقبال رحمتہ اللہ علیہ کا شعر عرض ہے
| سروری زیبا فقط اس ڈات بے انتہا کو ہے حکمراں ہے بس وہی باقی بتاں آزادی |
صدر ذی وقار!
حضرت علامہ اقبال مسلمانانِ عالم کو خودی کا پیغام دیتے ہیں۔ خودی ایک ایسا لفظ ہے جو ان کے کلام میں ایک وسیع المعنی لفظ ہے۔ خودی انسان کی ذات اور شخصیت کو کہتے ہیں۔ انسان اپنی ذات کو پہچانے اپنے حقیقت معلوم کرے اپنے اور خدا کے تعلق کو سمجھنے اگر اپنی اصلیت سمجھ گیا تو خدا کا سراغ پالینا مشکل نہیں۔ وہ مسلمان میں خودی کو بیدار کرنا چاہتے ہیں۔ عجز کمزوری اور بزدلی کو دور کر کے انسان کو اس کے اصل مقام سے آشنا کرانا چاہتے ہیں اور ایسے ہی مسلمان کو جس کی خودی بیدار ہو گئی ہو وہ مردِ مومن کہتے ہیں۔ حضرت اقبال کا فرمانا ہے کہ
| خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے |
میرے عزیز ساتھیو!
حضرت اقبال کی تعلیمات کو سمجھو اور ان پر پوری طرح عمل پیراں ہوجاؤ کہ اسی میں ہماری ذاتی دقومی بقا کا راز پوشیدہ ہے۔ اگر آج ہماری آنکھیں نہیں کھل سکیں گی تو پھرہمیشہ کے لیے ہمارے سامنے اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا۔ وہ اقبال فرماگئے ہیں
| ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدا |
جناب صدر اسی شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔
فی امانِ اللہ